حج کے احکام

اسلام کا پانچواں رکن حج ہے حج کس پر فرض ہے؟

جس کے پاس ضروریات سے زیادہ اتنا خرچ ہو کہ سواری پر درمیانہ گزارہ کے ساتھ کھاتے پیتے مکہ شریف تک جا کر اور حج کر آئے اور اپنے بچوں کا خرچ پیچھے چھوڑ جانے کے لیے ہو اس کے ذمہ حج فرض ہو جاتا ہے

مسئلہ: اگر کسی کے پاس صرف اتنا خرچ ہے کہ مکہ تک سواری پر آنا جانا ہو سکتا ہے مگر مدہنہ منورہ تک پہنچنے کا خرچ نہیں ہے تو اس پر بھی حج فرض ہو جاتا ہے

مسئلہ: حج عمربھر میں بس ایک مرتبہ فرض ہے اگر کئی حج کیے تو ایک فرض باقی سب نفل ہوں گے نفل حج کا بھی ثواب ہے

مسئلہ: لڑکپن میں ماں باپ کے ساتھ اگر کسی نے حج کر لیا تو نفلی حج ہے اگر جوان ہونے کے بعد صاحب استطاعت ہو جائے تو پھر حج کرنا فرض ہے

مسئلہ: اگر کسی ایسے شخص نے قرض لے کر یا مانگ تانگ کر حج کر لیا جو صاحب استطاعت نہ تھا پھر اس کے بعد اگر مال دار ہو جائے تو دوبارہ حج کرنا فرض نہ ہو گا

عورت کے لیے محرم یا شوہر ساتھ ہونے کی شرط

عورت کے لیے محرم یا شوہر کے بغیر ۴۸ میل یا اس سے زیادہ کا سفر کرنا شرعا ممنوع ہے سفر خواہ ریل سے ہو یا موٹر کار سے یا ہوائی جہاز سے اور یہ ممانعت جوان اور بوڑھی عورت ہر ایک کے لیے ہے بعض عورتیں سمجھتی ہیں کہ چند عورتوں کے ساتھ بغیر محرم کے عورت سفر میں چلی جائے تو یہ جائز ہے ان کا یہ خیال غلط ہے حضورﷺ نے بغیر کسی خصوصیت کے ہر عورت کے حق میں تاکیدی طور پر ممانعت فرمائی ہے

حج یا عمرہ کا سفر بھی محرم یا شوہر کے بغیر سخت ممنوع ہے اور گناہ ہے بہت سے عورتیں حج یا عمرہ کے لیے بغیر محرم اور شوہر چل دیتی ہیں جو شریعت کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہوتی ہیں اور اپنا حج یا عمرہ خراب کرتی ہیں مومن بندوں پر لازم ہے کہ شریعت کی پابندی کریں اپنی طبیعت کی خواہش پر نہ چلیں دنیاوی سفر میں احتیاط لازم ہے اس لیے تو ۱۵ یا ۲۰ میل کا سفر بھی بغیر محرم نہ کریں اس میں عفت و عصمت کی حفاظت ہے

محرم کون ہے

جس شخص سے کبھی بھی نکاح درست نہ ہو [جیسے باپ بیٹا پوتا نواسہ داماد سسر حقیقی چچا حقیقی ماموں] اس کو محرم کہتے ہیں خالہ ماموں چچا پھوُپھی کے لڑکے محرم نہیں ہیں بہنوئی محرم نہیں کیونکہ اگر وہ بہن کو طلاق دے دے یا بہن فوت ہو جائے تو بہنوئی سے نکاح جائز ہو جاتا ہے البتہ اگر ان میں سے کوئی رضاعی [یعنی دودھ شریک] بھائی جس نے دو سال کی مدت میں کسی ایسی عورت کا دودھ پیا ہے جس کا دودھ اس عورت نے بھی پیا ہو جو اس کے ساتھ حج یا عمرہ کو جانا چاہتی ہو تو یہ شخص بھی محرم ہے اور اس کے ساتھ سفر جائز ہے یاد رہے کہ محرم ایسا ہو جس سے بے اطمنانی نہ ہو اگر کوئی ایسا شخص ہے کہ محرم تو ہے لیکن اس کی عفت و عصمت داغ دار ہے یا اس کی طرف سے اطمنیان نہیں ہے تو اس کے ساتھ سفر کرنا جائز نہیں ہے خواہ کیسا ہی قریبی محرم ہو
بعض عورتیں خواہ مخواہ کسی کو باپ بیٹا بھائی بنا کر سفر میں ساتھ ہو لیتی ہیں شرعا اس کی کوئی حیثیت نہیں منہ بولا بیٹا یا بھائی بھی محرم نہیں ہیں ان کے بھی احکام وہی ہیں جو اجنبی مردوں کے ہیں