بد عت

اہل لغت بد عت کا اطلا ق ہر ا س چیز پر کر تے ہیں جو کسی سا بق نمو نے کے بغیر عمل میں لائی گئی ہو ، شر یعت کی اصلا ح میں بد عت
کے معنی ثو ا ب کی نیت سے کیا جا نے وا لا ہروہ عمل ہے جس کا رسو لﷺاور حضر ا ت صحابہ کرام رضوان علہیم اجمعین کے قول و فعل سے کئی ثبوت نہ ہو۔آپ ﷺ نے اللہ تعالی کی طرف سے پسند وناپسندکاجومعیاردیااس کانام دین وشریت ہے،جس کی تکمیل کا اعلان آپﷺکے وصال سے تین ماہ قبل حجہ الودوع کے موقع پرکردیاگیا تھا ۔

الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا

ا یک مو من کا اعتقادو ایمان اتنا پختہ و کامل ہونا چاہیے کہ قرآن وسنت  و الی ر اہ پور ے یقین کے سا تھ چلنے او رشر یعت کی حدورکے اندر ر ہنے کوہی ا پنے لئے فلا ح و سعا د ت سمجھے ،ا پنی نفسا نی خو ا ہشا ت اورذاتی اغر ا ض کی بنا پر دین میں نئے نئے طریقے را ئج کرنانہ صرف یہ کہ ایمان و اعتقاد کی بڑی کمزوری ہے بلکہ دعوی اسلام کے منافی ہے

بدعت میں مبتلا ہونے کے بعد دل و دماغ کی نورانیت و صلاحیت زا ئل ہو جاتی ہے آدمی حق و باطل کی تمیز کھو بیٹھتا ہے یہ ایک ایسا عمل ہے جس کو شیطان اتنا مزین اور خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے کہ کرنے والے کو اپنی غلطی کا احساس ہی نہ ہو اور مرتے دم تک اسے توبہ کی توفیق نہ ملے