آخرت کے دن کامیابی اور ناکامی کا معیار

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔

فَاَمَّا مَنْ طَغٰی Oوَاٰثَرَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا O فَاِنَّ الْجَحِیْمَ ہِیَ الْمَاْوٰیOوَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی Oفَاِنَّ الْجَنَّۃَ ھِیَ الْمَاْ وٰیO

(النّٰزعت ۳۸۔۴۱)
ترجمہ۔سو جس نے کی ہو شرارت اور بہتر سمجھا ہو دنیا کاجینا ۔سو دوزخ ہی ہے اس کا ٹھکانا۔ اور جو کوئی ڈرا ہو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے اور روکا ہو اس نے جی کو خواہش سے۔ سو بہشت ہی ہے اس کا ٹھکانا۔
تشریح:۔ یعنی دنیا کی عیش و عشرت اور لذتوں کو آخرت پر ترجیح دی اسے بہتر سمجھ کر اختیار کیا اور آخرت کو بھلا دیا ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور جو اس بات کا خیال کرکے ڈرا کہ مجھے ایک روز اللہ کے سامنے حساب کے لئے کھڑا ہو نا ہے اور اسی ڈر سے اپنے نفس کی خواہش پر نہ چلا بلکہ اسے روک کر اپنے قابو میں رکھا اور احکام الٰہی کے تابع بنایا تو اس کا ٹھکانا بہشت کے سوا کہیں نہیں۔
حضور اکرم ﷺ کاارشاد ہے۔

حُجِبَتِ النَّارُ باالشَّہَوَاتِ وَحُجِبَتِ الْجَنَّۃُ باالْمَکاَرِہ

(رواھ البخاری ومسلم)

ترجمہ۔دوزخ کو شہوات سے ڈھانپا گیا ہے اور جنت کو مشکلات سے ڈھانپا گیا ہے۔
تشریح:۔ یعنی جو لوگ حلال حرام کی تمیز کے بغیر جانوروں کی طرح شہوت رانی کریں گے اور زنا،لواطت کا راستہ اختیار کریں گے وہ لوگ دوزخ کا ایندھن بنیں گے اور جو نفسانی خواہشات کو لگام ڈال کر بدکاری ،بے حیائی سے رکنے اور ی لوگ جنت کے حقد ار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے